ابنا: وہ گذشتہ روز ایسے وقت پر سکاٹ لینڈ کے دورے پر پہنچے جب ایک جانب تو ان کے پیشرو ٹونی بلیئر کی عراق جنگ پر انکوائری میں جذباتی پیشی تھی تو دوسری جانب ویسٹ منسٹر میں ایک ہائی پروفائل شخصیت نے استعفیٰ دے دیا تھا۔وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ڈائریکٹر کمیونی کیشنز اینڈی کولسن نے اپنا استعفیٰ ”نیوز آف دی ورلڈ“ پر فون ہیکنگ سے آگاہ ہونے پر دیا۔ وہ اس وقت پرچے سے بطور ایڈیٹر وابستہ تھے۔ کولسن اس وقت وہاں پہنچے جب چند منٹ قبل ملی بینڈ نے 2006ء میں افغانستان میں ہلاک ہونے والے کارپورل مارک رائٹ کی فیملی سے ملاقات کی تھی۔ ملی بینڈ سے شیڈو چانسلر ایلن جانسن کے ذاتی وجوہات کی بناء پر استعفیٰ سے متعلق بھی سوالات کئے گئے۔یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ ان کی اہلیہ اور پولیس کے ایک محافظ کے درمیان ”افیئر“ تھا۔ بعد ازاں ایڈملی بینڈ نے مڈلوتھیان میں مارک رائٹ پروجیکٹ کا دورہ کرنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں عراق پر کہہ چکا ہوں کہ یہ ایک غلطی تھی اور ہمیشہ اس موقف پر قائم رہوں گا۔ دریں اثنا اپنے ایک تحریری بیان میں ملی بینڈ نے اعتراف کیا کہ لیبر پارٹی کو سخت جنگ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبرل ڈیموکریٹس اور لیبر کے درمیان اتحاد کے قیام کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔
..........بعض اہم سوالات:کیا ڈیویڈ ملی بینڈ کے اعتراف سے عراق کو پہنچنے والے نقصانات اور جارحیت کی وجہ سے لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع کی تلافی ہوسکے گی؟ کیا برطانیہ اور امریکہ عراق کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا ازالہ کریں گے؟ کیا اب جبکہ غلطیوں کے اعترافات کا موسم شروع ہوچکا ہے، امریکہ اور خاص طور پر ایڈ ملی بینڈ کا ملک برطانیہ (بوڑها استعمار) عراق کی حیثیت کا اعادہ کرتے ہوئے اس ملک کے جانی اور مالی نقصانات کا ازالہ کریں گے اور کیا ملی بینڈ کے اعتراف سے عراقی ملت برطانوی جارحیت کو بھلاسکے گی؟ اور سب سے بڑھ کر اہم سوال یہ که کیا اب امریکی اور برطانوی عراقیوں کو اپنے حال پر چھوڑنے اور اس ملک کا قبضہ ختم کرنے پر آمادہ ہونگے؟.......
/110